حلیم یا دلیم؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم " اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانے کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے " وکیل " تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟ اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔" حکیم " سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان حکیم کیسے ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں " اوّل " آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس " آخر " میں کچھ " باقی " رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی " بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان یقیناً مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی " قابض " نہیں کہتے ہوں گے۔ 'ساڈی " باری " آن دیو' کا نعرہ بھی انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ ...
Comments
Post a Comment