Skip to main content

حلیم یا دلیم؟




حلیم یا دلیم؟

کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم"  اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانے کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔


امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے  "وکیل"  تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟  اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔"حکیم" سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان  حکیم کیسے  ہو سکتا ہے؟


نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں "اوّل"  آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس  "آخر" میں کچھ  "باقی"  رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی"  بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی  کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان  یقیناً  مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی  "قابض"  نہیں کہتے ہوں گے۔  'ساڈی  "باری" آن دیو'   کا نعرہ  بھی  انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ انہی اصولوں کی بنیاد پر  "لطیفہ"  کہنا بھی بے ادبی کے زمرے میں آنے لگے گا اور "ملِک"  صاحب کہنا تو  پھر سیدھا سیدھا کفر ہی ٹھہرےگا۔ 


لفظ " مصوّر"  کے لئے تو پھر فتویٰ لینے کے بھی ضرورت نہیں ہے۔ کسی صحابی،   ولی اللہ  یا بادشاہ کو "جلیل"  القدر کہنا شرک ٹھہرے گا اور  "شہید"  کا استعمال انسانوں کے لئے متروک  قرار پائے گا۔ کسی کو " عظیم"  کہنے پر پابندی ہوگی اور  "مقتدر"  قوتیں کہنے پر تعزیر جاری کی جائے گی۔  کوئی انسان کسی کا " والی" " وارث"  نہیں کہلائےگا کیوں کہ یہ دونوں بھی اسمائے الہٰی ہیں۔  "ظاہر"  و " باطن"  بھی انسانوں کے لئے ممنوع قرار پائیں گے۔ کوئی  عمل یا کاروبار "  نافع"  ہوگا اور نہ کوئی مسجد یا کتاب  "جامع"  کہلائے گی۔ بیشتر اردو شاعری کو دریا بُرد کرنا پڑے گا کیونکہ ناہنجار شاعروں نے  "رقیب"  کی دل کھول کر برائیاں کی ہیں جو کہ اس نئے  اسلامی نظام کے بالکل خلاف ہے۔  اسی ہی طرح نہ تو کوئی کام  "مؤخر"  کیا جا سکے گا اور نہ ہی کسی کی برائی کرتے ہوئے اسے  "منتقم"  مزاج کہنے کی اجازت ہو گی۔


یہاں پر ایک سنگین مسئلہ پر غور کرنے کی ضرورت پڑے گی کہ صدیوں سے علمائے اسلام حضرت عثمان کو " غنی"  لکھ رہے ہیں۔ اب ان کی تمام کتابوں کو کس طرح سے درست کیا جاسکتا ہے۔ اور اس سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ آقائے دوجہاں، نبی آخر الزّماں نے تمام عمر اپنے عزیز ترین صحابی،  عم زاد اور داماد کو  "علی"  کے نام سے پکارا  اور یہ عمل نہ تو ربِّ کائنات کی بے ادبی کا باعث بنا اور نہ ہی موجبِ شرک ٹھہرا۔  اب یہاں اس نئے فہمِ اسلام کو کیسے نافذ کیا جائے  گا؟



Comments

Popular posts from this blog

محسن نقوی کی طویل نعتیہ نظم موجِ ادراک

محسن نقوی کی طویل نعتیہ نظم  ’موجِ ادراک‘تحت اللفظ پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ کلام کی طوالت کی وجہ سے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر حصہ 17 سے 19اشعار پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ پیشِ  خدمت ہے۔   دوسرا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ تیسرا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ چوتھا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ پانچواں  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔

کیا پورے پاکستان میں ایک ہی دن عید منانا ضروری ہے؟

کیا پورے پاکستان  میں ایک ہی دن عید منانا ضروری ہے؟ عید کی آمد آمد   ہے۔   پاکستانی مسلمان ایک طرف خوشی سے   سرشار ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے عبادت کے جذبے کے ساتھ رمضان گزارنے کا موقع عطا فرمایا۔ اور انعام کے طور پر عید کی آمد کی نوِید ہے۔ لیکن دوسری طرف ایک خدشہ بھی لگا ہے کہ کیا اس بار بھی عید پر وہی تماشا ہو گا جو پچھلے کئی برسوں سے جاری ہے؟ کیا اس سال بھی وطنِ عزیز   میں   لوگ اس   خوشی کے موقع پر منقسم ہوں گے؟ کیا اس سال بھی ملک میں دو الگ الگ دنوں میں عید منائی جائے گی؟ لیکن اس سے بھی اہم سوال   یہ   ہے کہ کیا پورے ملک میں ایک ہی دن عید منانا ضروری ہے؟   شمسی اور قمری تقویم اصل مسئلے   پر بات کرنے سے پہلے کچھ ’بونس‘ معلومات   پیش خدمت   ہیں۔  دنیا میں دو طرح کی تقویم ( calendar ) رائج ہیں قمری اور شمسی ۔   قمری تقویم چاند   کے گھٹنے اور بڑھنے پر   مہینوں کا حساب کرتی ہے۔ یہ دنیا   کی قدیم ترین   تقویم سمجھی جاتی ہے۔   اس کے قدیم ترین شواہد   شہر روم کے قریب البان پہاڑی ...