Skip to main content

Posts

Blackmailer Journalists

صحافی (Blackmailer) بلیک میلر مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہمارے صحافی بھائی اُس کی فصل کاٹ رہے ہیں جو کل انہوں نے بویا تھا۔ جب پاکستان بنا تھا تو مسائل بے شمار تھے اور وسائل ندارد۔ اس کے باوجود پاکستانی سیاستدانوں نے اپنے تئیں ان مسائل کے حل کی کوششیں کیں اور بہت جلد پاکستان کو اقوامِ عالم میں ایک نمایاں مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ ریاست جس کے بارے میں ہندو کہتے تھے کہ سال بھر بھی نہ چلے گی، دس سال کے اندر اندر اتنی طاقتور ہو گئی کہ انڈیا کے مقابلے پر اس کا نام لیا جاتا تھا۔ گو کہ اس وقت کے سارے سیاستدان فرشتے نہیں تھے مگر بیشتر سیاستدان محبِ وطن اور ایماندار تھے۔ مگر ہمارے پریس نے اس وقت ان ایماندار لوگوں کی قدر نہ کی اور نہ ہی لوگوں کو ان ایماندار رہنماوں کے بارے میں بتایا۔ بلکہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے بے ایمان قرار دے ڈالا۔ پاکستان کو اس وقت کا گورنر جنرل اور صدر اسکندر مرزا جب اپنے عہدے سے علیحدہ کیا گیا تو اس کو گزارا کرنے کے لئے لندن میں ایک ہوٹل میں ملازمت کرنی پڑی۔ یہی حال پاکستان کے پہلے مارشل لاء سے پہلے کے بیشتر سیاستدانوں کا تھ...

حلیم یا دلیم؟

حلیم یا دلیم؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم "  اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانے کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے  " وکیل "  تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟  اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔" حکیم " سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان  حکیم کیسے  ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں " اوّل "  آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس  " آخر " میں کچھ  " باقی "  رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی "  بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی  کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان  یقیناً  مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی  " قابض "  نہیں کہتے ہوں گے۔  'ساڈی  " باری " آن دیو'   کا نعرہ  بھی  انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ ...

جماعت اسلامی کی دو عملیاں

جماعت اسلامی کی دو عملیاں ہمارے ملک میں ایک طرف امر بالمعروف و نہی عن المنکر ﴿امر کم اور نہی زیادہ﴾ پر عمل کرتے ہوےٴ شباب ملی کے کارکنان سالِ نو کی سرد رات میں ہوٹلوں مراکز فواحشات کے باہر ڈنڈا بردار مظاہرے کرتے ہیں ﴿جہاں موقعہ ملے ڈنڈا مار بھی دیتے ہیں﴾ اور جوانوں کو منکرات اور فواحشات سے روکتے ہیں۔ دوسری طرف ہمارے اسی معاشرے میں پھیلی ہویٴ بے شمار برائیاں ان کی توجہ اس طرح مبذول نہیں کرا پاتیں۔ مثلاً سانحہٴ نواب پور سے لے کر حالیہ سانحہٴ ہزارہ تک ہزاروں واقعات میں بااثر افراد سرِبازار مظلوم عورتوں سے لرزہ خیز سلوک کرتے ہیں۔ مگر ان لوگوں کے خلاف اس طرح کا احتجاج کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔   کبھی اتنے پیارے بن جاتے ہیں کہ خاتونِ پاکستان محترمہ فاطمہ جناح کی حمایت میں الیکشن مہم چلاتے ہیں اور اپنا سارا وزن ان کے پلڑے میں ڈال دیتے ہیں اور کبھی اتنے ناراض ہو جاتے ہیں کہ عورت ہونے کی بناء پر بے نظیر بھٹو کو حقِ حکمرانی دینے کو تیار نہیں ہوتے۔   ایوب خان کے مارشل لاء کی مخالفت کرتے ہیں مگر ضیاءالحق کے مارشل لاء کو سہارا دیتے ہیں حالانکہ بعد میں پروفیسر غفور صاحب اقرار ب...

اِب کے مار، اِب کے مار کے دکھا

  اِب کے مار، اِب کے مار کے دکھا   جب عوام کے پاس اپنی بات سنانے کا یا اپنے جذبات آگے پہنچانے کے کوئی ذریعہ نہ بچے تو وہ احتجاج کا سہارا لیتے ہیں۔ اگرچہ حکومتیں اور دوسرے ادرارے تو مختلف طرح کی سہولیات استعمال کرکے اپنی بات ہر جگہ پھیلا سکتے ہیں مگرعوام کے پاس اپنے جذبات کے اظہار کا آخری ذریعہ جلسے، جلوس یا دھرنے ہی رہ جاتے ہیں۔ بیشتر حالات میں احتجاج چونکہ مقتدرہ کے خلاف ہوتا ہے لہٰذا یا تو عوام   اپوزیشن رہنماوں کی سرکردگی میں احتجاج کرتے ہیں یا پھر اپوزیشن رہنما کوشش کر کے احتجاج کی عنان اپنے ہاتھوں میں لے لیتے ہیں۔ بہر حال یہ بات اتنی بری نہیں ہوتی کیونکہ بے سمت اور بے قابو احتجاج فائدے سے زیادہ نقصان کا باعث ہوتا ہے۔   احتجاج سیاست کا اہم حربہ ہے مگر یہ تب ہی موثر ہوتا ہے جبکہ اسے سمجھداری سے، صحیح وقت، صحیح جگہ اور صحیح طریقے سے استعمال کیا جائے۔ کثرت استعمال سے یہ غیر موثر ہوتا چلا جاتا ہے۔   سیاست کی دنیا میں سب سے بڑا ہتھیار "اعتبار" ہوتا ہے۔ باقی تمام حربے مثلاْ   احتجاج، جلسے، جلوس، دھرنے، مارچ، بائیکاٹ، وغیرہ مقاصد حاصل کرنے کا ذریعہ...

چلیں کفن کا کاروبار کریں

چلیں کفن کا کاروبار کریں   میری قوم کے نوجوان اپنی تقدیر سے مایوس، پیٹ میں فاقے اور ہاتھوں میں کشکول اٹھائے گھوم رہے ہیں۔ نوکری حاصل کرنا کارِدارد اور کاروبار شروع کرنا جوئے شِیر لانے کے مترادف۔ کچھ ہاتھ مانگنے کو اٹھ گئے ہیں تو کچھ چھیننے پر آمادہ۔ بھوک ایمان کو نگل رہی ہے۔ فاقے امان کو کھا رہے ہیں۔ بے کاری عیّاری کو جنم دے رہی ہے۔ اور جرائم کا ٹڈی دَل اقتصادیات کی فصل کو چاٹ چکا ہے۔   مگر پھر بھی ایک کاروبار ہے جو روزافزوں بڑھ رہا ہے، پھل پھول رہا ہے، آکاس بیل کی طرح ہمارے دیوار و در پر پھیلتا چلا جا رہا ہے۔ میرے ملک کے سارے جوانوں کو خبر کر دو کہ جائیں اور کفن کا کاروبار کریں۔ اٹھیں اور دفن کی خدمات سر انجام دیں۔ چلیں اور قبر کے پلاٹ بیچیں۔   میرے وطن میں جب چاہے ڈرون طیّارے آتے ہیں اور میرے دسیوں ہم وطنوں کو خاک و خون میں نہلا جاتے ہیں۔   جس دن ڈرون حملہ نہ ہو سکے اس روز ڈرون حملوں کے مخالف میرے وطن کو بم حملے کا نشانہ بناتے ہیں، درجنوں پاکستانیوں کو زندگی کی قید سے آزاد کرا دیتے ہیں۔ ڈرون والوں کی طرح یہ بھی التزام رکھتے ہیں کہ صرف عام پاکستانی ہی مارے جائیں۔ ...