Skip to main content

Posts

محسن نقوی کی طویل نعتیہ نظم موجِ ادراک

محسن نقوی کی طویل نعتیہ نظم  ’موجِ ادراک‘تحت اللفظ پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ کلام کی طوالت کی وجہ سے اسے پانچ حصوں میں تقسیم کر دیا ہے۔ ہر حصہ 17 سے 19اشعار پر مشتمل ہے ۔ پہلا حصہ پیشِ  خدمت ہے۔   دوسرا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ تیسرا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ چوتھا  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔ پانچواں  حصہ  پیشِ  خدمت ہے ۔

میری والدہ بلقیس قریشی صاحبہ کی غزل، ان کی اپنی آواز میں

میری والدہ بلقیس قریشی صاحبہ کی غزل، ان کی اپنی آواز میں  

Hajj travelog - 2018

سفرنامہ حج 2018 اس مضمون کا کوئی ایک رنگ نہیں ۔ یہ ایک سفرنامہ بھی ہے اور ہدایت نامہ بھی۔  کہیں یہ رپورتاژ  بن جاتا ہے تو کہیں ڈائری کا   رُوپ دھار لیتا ہے۔  گرچہ اس کی ایک وجہ میرا خامۂ خام بھی ہے لیکن  کہیں کہیں  اپنی بات سمجھ انے   کے لئے جان بوجھ کر بھی اپنا   آہنگ تبدیل کیا ہے۔ اس مضمون میں حج کی قلبی کیفیات کے ذکر سے دانستہ    پہلو تہی کی گئی ہے کیونکہ اس موضوع پر   اس قدر اعلیٰ معیارکی تحاریر موجود ہیں کہ مجھ جیسے نو آموز اس معیار کے قریب پہنچنے کا خواب بھی نہیں دیکھ سکتے۔ یہاں  صرف ان تجربات کا ذکر کیا ہے جو  حج کی بہتر تیاری  میں مدد کر سکتے ہیں اورآپ   کو حج میں ہونے والی متوقع جسمانی محنت کے لئے ذہنی طور پر تیار کر سکتے ہیں۔

سنتوں کے سوداگر

سنتوں کے سوداگر سحری کا با برکت وقت تھا۔ ٹی وی چینل پر شہرِ رمضان سجا ہوا تھا۔ میزبان اور علماء کرام سحری کی میز پر موجود تھے جہاں طعام کے ساتھ خوبصورت دینی گفتگو کا سلسلہ بھی جاری تھا۔ تمام افراد زمین پرتشریف فرما تھے اور ان کے سامنے تقریباً  ڈیڑھ فٹ اونچی اور آٹھ فٹ لمبی میز پر انواع و اقسام کی نعمتیں موجود تھیں۔ سحری کے اختتام پر ایک عالم نے اتنی عمدہ سحری پر میزبان  کی تعریف کی اور کہا کہ جناب اگر اس میز کے بجائے دسترخوان بچھا لیا جاتا تو سنت کا ثواب بھی حاصل ہو جاتا۔ اس پر دوسرے عالم نے ٹی وی سیٹ کی نزاکتیں سمجھتے ہوئے مشورہ دیا کہ اس میز پر ہی دسترخوان بچھا لیا جائے تو سنت پوری ہو جائے گی۔ ایک لمحے کو دل خوشی سے جھوم اٹھا کہ ہمارے علماء سنتوں کا کس قدر خیال رکھتے ہیں۔ مگر  یہ نفسِ غیر مطمئنہ (شیطان تو  آج کل  زنجیروں میں جکڑا ہوا ہو گا) کہ  کوئی اچھی بات سوچ ہی نہیں سکتا۔ خیال در  آیا کہ سنت ِ رسول ﷺ پر اس قدر باریکی سے نظر رکھنے والے عالم کی نظر حقیقت بیں سے کیا کیا چیزیں  پنہاں رہ گئیں۔ یاد آیا کہ میرے آقا ﷺ نے تمام عمر کبھی ...

شام شعر یاران (از مشتاق احمد یوسفی) سے انتخاب

شامِ شعرِ یاراں سے انتخاب لغت دیکھنے کی عادت آج کل اگر کلیّتاً   تَرک نہیں ہوئی تو کم سے کم تر اور نامطبوع ضرور ہوتی جا رہی ہے۔ نتیجہ یہ کہ  vocabulary  یعنی زیرِ استعمال ذخیرۂ الفاظ تیزی سے سکڑتا جا رہا ہے۔ لکھنے والے نے اب خود کو پڑھنے والیے کی مبتدیانہ ادبی سطح  کا تابع اور اس کی انتہائی محدود اور بس کام چلاؤ لفظیات کا پابند کر لیا ہے۔ اس باہمی مجبوری کو سادگی وسلاستِ بیان،  فصاحت اور عام فہم کا بھلا سا نام دیا جاتا ہے!  قاری کی سہل انگاری اور لفظیاتی  کم مائیگی کو اس سے پہلے کسی بھی دَور میں شرطِ نگارش اور معیارِابلاغ کا درجہ نہیں دیا گیا۔ اب تو یہ توقع کی جاتی ہے  کہ پھلوں سے لدا  درخت خود اپنی شاخِ ثمردار شائقین کے عین منہ تک جھُکا دے! لیکن وہ کاہل خود کو بلند کر کے یا ہاتھ بڑھا کر پھل تک پہنچنے کی کوشش ہرگز نہیں کرے گا۔      مجھے تو اندیشہ ستانے لگا ہے کہ کہیں یہ سلسلۂ سلاست و سادگی،  بالآخر تنگنائے اظہار اور عجز بیان سے گزر کر، نِری     language body  یعنی اشاروں  اور...

Blackmailer Journalists

صحافی (Blackmailer) بلیک میلر مجھے بڑے افسوس کے ساتھ کہنا پڑے گا کہ ہمارے صحافی بھائی اُس کی فصل کاٹ رہے ہیں جو کل انہوں نے بویا تھا۔ جب پاکستان بنا تھا تو مسائل بے شمار تھے اور وسائل ندارد۔ اس کے باوجود پاکستانی سیاستدانوں نے اپنے تئیں ان مسائل کے حل کی کوششیں کیں اور بہت جلد پاکستان کو اقوامِ عالم میں ایک نمایاں مقام پر پہنچانے میں کامیاب ہو گئے۔ وہ ریاست جس کے بارے میں ہندو کہتے تھے کہ سال بھر بھی نہ چلے گی، دس سال کے اندر اندر اتنی طاقتور ہو گئی کہ انڈیا کے مقابلے پر اس کا نام لیا جاتا تھا۔ گو کہ اس وقت کے سارے سیاستدان فرشتے نہیں تھے مگر بیشتر سیاستدان محبِ وطن اور ایماندار تھے۔ مگر ہمارے پریس نے اس وقت ان ایماندار لوگوں کی قدر نہ کی اور نہ ہی لوگوں کو ان ایماندار رہنماوں کے بارے میں بتایا۔ بلکہ سب کو ایک ہی لاٹھی سے ہانکتے ہوئے بے ایمان قرار دے ڈالا۔ پاکستان کو اس وقت کا گورنر جنرل اور صدر اسکندر مرزا جب اپنے عہدے سے علیحدہ کیا گیا تو اس کو گزارا کرنے کے لئے لندن میں ایک ہوٹل میں ملازمت کرنی پڑی۔ یہی حال پاکستان کے پہلے مارشل لاء سے پہلے کے بیشتر سیاستدانوں کا تھ...

حلیم یا دلیم؟

حلیم یا دلیم؟ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ حلیم کو کسی اور نام سے پکارنا چاہئے کیونکہ " حلیم "  اللہ تعالیٰ کا صفاتی نام ہے اور حلیم بنانے کے افعال کے ساتھ اس لفظ کا استعمال گستاخی کے زمرے میں آتا ہے۔ امید ہےکہ وہ اپنے مقدمات کے لئے  " وکیل "  تو نہیں کرتے ہوں گے کہ انسان کو وکیل کیسے کہا جا سکتا ہے؟  اور یا پھر وہ وہ وکیلوں کے بارے میں مشہور ترین شعر سے بھی اتفاق نہیں کرتے ہوں گے۔" حکیم " سے دوا بھی نہیں لیتے ہوں گے کہ انسان  حکیم کیسے  ہو سکتا ہے؟ نہ تو ان کے بچے مدرسوں میں " اوّل "  آتے ہوں گے اور نہ ہی ان کے پاس  " آخر " میں کچھ  " باقی "  رہ جاتا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمام بھی اللہ تعالیٰ کے صفاتی نام ہیں۔ مرنے کے بعد ان کا کوئی" ولی "  بھی نہیں ہوتا ہوگا کیونکہ انسان ولی  کے درجے پر کیسے پہنچ سکتا ہے؟ یہ متقیان  یقیناً  مقبوضہ کشمیر میں ہندوستانی افواج کو بھی  " قابض "  نہیں کہتے ہوں گے۔  'ساڈی  " باری " آن دیو'   کا نعرہ  بھی  انہیں کفّار کی سازش لگتا ہوگا۔ ...